کو لکاتا، 30؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) مغربی بنگال کا موازنہ ایک بار پھر کشمیر سے کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے آج ریاستی کمیٹی کے اجلاس میں کہا ہے کہ بنگال میں جس طریقے سے تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں ایسے حالات تو کشمیر میں بھی نہیں ہیں۔ کشمیر سے موازنہ کیے جانے پر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔
بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد بنگال میں جس طریقے سے تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے حالات ہندوستان کی تقسیم کے وقت بھی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھی ایسے حالات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر جب کہ چالیس سال سے جل رہا ہے۔ ہمارے 80 ہزار کارکنان بے یارو مدگار و بے گھر ہیں۔ 11 ہزار شکایتیں کی گئی ہیں مگر پولیس اس پر کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ ایف آئی آر درج تک نہیں ہو رہی ہے۔ اس لئے ہم نے سپریم کورٹ اور حقوق انسانی کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے 80 ہزارا کارکنان بے گھر ہیں۔ ہزاروں شکایتیں کی گئی ہیں مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اب عدالت کی سختی کے بعد ہمارے کارکنان کو واپس لانے کے لئے پولیس کارروائی کر رہی ہے۔ اس معاملے میں حکومت کو قرطاس ابیض لانے کی ضرورت ہے۔ گورنرکے بیانات پر رد عمل دیتے ہوئے گھوش نے کہا کہ وہ مظلوم عوام کے ساتھ ملاقات کرکے کوئی غلط کام نہیں کر رہے ہیں، مگر انہیں ذلیل کیا جا رہا ہے۔
ترنمول کانگریس کے ترجمان کنال گھوش نے کہا کہ دلیپ گھوش عوام کے فیصلے سے الیکشن ہارنے کے بعد غیر حقیقی بات کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے اجلاس میں اس بارے میں کوئی بحث نہیں ہوئی ہے کہ وہ انتخاب ہار کیوں گئے؟ بی جے پی کو نوشتہ دیوار پڑھنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی اقتدار تک نہیں پہنچی ہے، مگر بی جے پی ناکام نہیں ہوئی ہے۔ 77 سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے۔ میٹنگ میں موجود شوبھندو ادھیکاری نے ایک سیٹ کا تجزیہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہاری ہوئی ایک ایک سیٹ کا تجزیہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے تمام ممبران اسمبلی کے ساتھ ایک تربیتی کیمپ لگایا جائے گا اور اس میں دلیپ گھوش بھی شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ منوج ٹکا جنہوں نے 2016 میں بھی جیت حاصل کی تھی کو بھی اس کیمپ میں مدعو کیا گیا ہے۔